حدیث نمبر: 13762
وَعَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَمَّا عُرِجَ بِإِبْرَاهِيمَ رَأَى رَجُلًا يَفْجُرُ بِامْرَأَةٍ ، فَدَعَا عَلَيْهِ فَأُهْلِكَ ، ثُمَّ رَأَى رَجُلًا عَلَى مَعْصِيَةٍ ، فَدَعَا عَلَيْهِ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : إِنَّهُ عَبْدِي ، وَإِنَّ مَصِيرَهُ مِنِّي خِصَالٌ ثَلَاثٌ : إِمَّا أَنْ يَتُوبَ فَأَتُوبَ عَلَيْهِ ، وَإِمَّا أَنْ يَسْتَغْفِرَنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ، وَإِمَّا أَنْ يَخْرُجَ مِنْ صُلْبِهِ مَنْ يَعْبُدُنِي ، يَا إِبْرَاهِيمُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ مِنْ أَسْمَائِي أَنِّي أَنَا الصَّبُورُ ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ اللَّهْبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو معراج کروائی گئی ، تو انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک عورت کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کر رہا تھا ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس کے خلاف دعائے ضرر کی ، تو وہ ہلاکت کا شکار ہو گیا ، پھر انہوں نے ایک اور شخص کو گناہ کرتے ہوئے دیکھا ، تو انہوں نے اس کے خلاف دعائے ضرر کی ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی : یہ میرا بندہ ہے ، اور اس نے لوٹ کے میری طرف آنا ہے ، تین صورتیں ہیں ، یا تو یہ ہے کہ یہ توبہ کر لے گا اور میں اس کی توبہ قبول کر لوں گا ، یا یہ ہے کہ یہ مجھ سے مغفرت طلب کرے گا ، تو میں اس کی مغفرت کر دوں گا ، یا یہ ہے کہ اس کی پشت میں سے وہ لوگ نکلیں گے ، جو میری عبادت کریں گے ، اے ابراہیم ! کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میرے اسماء میں سے ، ایک اسم یہ ہے کہ میں ” صبور “ ہوں ( یعنی برداشت کرنے والا ہوں ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوعلی لہبی ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13762
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً