حدیث نمبر: 13753
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : " إِنَّ آدَمَ لَمَّا طَوْطَى عَنْ كَلَامِ الْمَلَائِكَةِ ، وَكَانَ يَسْتَأْنِسُ لِكَلَامِهِمْ ، بَكَى عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مِائَةَ سَنَةٍ ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى : يَا آدَمُ ، مَا يُحْزِنُكَ ؟ قَالَ : كَيْفَ لَا أَحْزَنُ وَقَدْ أَهْبَطْتَنِي مِنَ الْجَنَّةِ ، وَلَا أَدْرِي أَعُودُ إِلَيْهَا أَمْ لَا ؟ فَقَالَ اللَّهُ : يَا آدَمُ قُلِ : اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، رَبِّ إِنِّي عَمِلْتُ سُوءًا وَظَلَمْتُ نَفْسِي ، فَاغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ . وَالثَّانِيَةُ : اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، سُبْحَانَكَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ، فَاغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ . وَالثَّالِثَةُ : اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، رَبِّ عَمِلْتُ سُوءًا وَظَلَمْتُ نَفْسِي ، فَاغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ . فَهَذِهِ الْكَلِمَاتُ الَّتِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ( فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ) قَالَ : وَهِيَ لِوَلَدِهِ مِنْ بَعْدِهِ . وَقَالَ آدَمُ لِابْنٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ : هِبَةُ اللَّهِ - وَيُسَمِّيهِ أَهْلُ التَّوْرَاةِ وَأَهْلُ الْإِنْجِيلِ شِيثٌ - : تَعَبَّدْ لِرَبِّكَ وَسَلْهُ : يَرُدُّنِي إِلَى الْجَنَّةِ أَمْ لَا ؟ فَتَعَبَّدَ وَسَأَلَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : إِنِّي أَرُدُّهُ إِلَى الْجَنَّةِ . قَالَ : أَيْ رَبِّ إِنِّي لَمْ آمَنْ أَبِي ، أَحْسَبُ أَنَّ أَبِي سَيَسْأَلُنِي الْعَلَامَةَ . فَأَلْقَى اللَّهُ إِلَيْهِ سِوَارًا مِنْ أَسْوِرَةِ الْجَنَّةِ ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ : مَا وَرَاءَكَ ؟ قَالَ : أَبْشِرْ قَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ رَادُّكَ إِلَى الْجَنَّةِ . قَالَ : فَمَا سَأَلْتَهُ الْعَلَامَةَ ؟ فَأَخْرَجَ السِّوَارَ فَعَرَفَهُ فَخَرَّ سَاجِدًا ، فَبَكَى حَتَّى سَالَ مِنْ عَيْنَيْهِ نَهْرٌ مِنْ دُمُوعٍ ، وَآثَارُهُ تُعْرَفُ بِالْهِنْدِ ، وَذُكِرَ أَنَّ كَنْزَ الذَّهَبِ بِالْهِنْدِ مِمَّا يَنْبُتُ مِنْ ذَلِكَ السِّوَارِ ، ثُمَّ قَالَ : اسْتَطْعِمْ لِي رَبَّكَ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ . فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ مَاتَ آدَمُ ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ : إِلَى أَيْنَ ؟ فَقَالَ : إِنَّ أَبِي أَرْسَلَنِي أَنْ أَطْلُبَ إِلَى رَبِّي أَنْ يُطْعِمَهُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ . قَالَ : فَإِنَّ رَبَّهُ قَضَى أَنْ لَا يَأْكُلَ مِنْهَا شَيْئًا حَتَّى يُعَادَ إِلَيْهَا ، وَإِنَّهُ قَدْ مَاتَ فَارْجِعْ فَوَارِهِ . فَأَخَذَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَغَسَّلَهُ وَكَفَّنَهُ وَحَنَّطَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ جِبْرِيلُ : هَكَذَا فَاصْنَعُوا بِمَوْتَاكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا آدم علیہ السلام کو فرشتوں کا کلام سننے سے روک دیا گیا ، تو وہ پہلے فرشتوں کے کلام سے انسیت حاصل کرتے تھے ، وہ جنت کے دروازے پر ایک سو سال تک روتے رہے ، اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا : اے آدم ! تم کس بات پر غمگین ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں کیوں غمگین نہ ہوؤں ؟ جبکہ تو نے مجھے جنت سے نیچے اتار دیا ہے ، اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ کیا میں اس کی طرف واپس جا پاؤں گا یا نہیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم ! تم یہ پڑھو : ” تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو اکیلا ہی معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے ، اے میرے پروردگار ! میں نے برائی کا ارتکاب کیا اور اپنے اوپر ظلم کیا ، تو میری مغفرت کر دے ! بے شک تو سب سے زیادہ مغفرت کرنے والا ہے ۔ “ دوسرا یہ پڑھو : ” اے اللہ ! تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ہی معبود ہے ، تو یکتا ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ، تو میری مغفرت کر دے ، بے شک تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔ “ تیسرا یہ پڑھو : ” اے اللہ ! تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، اے میرے پروردگار ! میں نے برائی کا ارتکاب کیا اور اپنے اوپر ظلم کیا ، تو میری مغفرت کر دے ، بے شک تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ۔ “ تو یہ وہ کلمات ہیں ، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل کی : ” تو آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھ لیے ، تو پروردگار نے اس کی توبہ قبول کی ، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ۔ “ تو پروردگار نے فرمایا : یہ ( کلمات ) اس کے بعد اس کی اولاد کے لئے بھی ہوں گے ۔ سیدنا آدم علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے جن کا نام ” ہبۃ اللہ “ تھا ، اور اہل تورات اور اہل انجیل انہیں ” شیث “ کہتے ہیں ، ان سے یہ فرمایا : تم اپنے پرودگار کی عبادت کرو اور اس سے یہ سوال کرو کہ کیا وہ مجھے جنت کی طرف لوٹائے گا یا نہیں ؟ تو انہوں نے عبادت کی اور انہوں نے یہ سوال کیا ، تو پروردگار نے ان کی طرف یہ وحی کی : میں اس کو جنت کی طرف لوٹا دوں گا ، تو انہوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے والد مجھ سے اس بارے میں کوئی نشانی پوچھ سکتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جنت کے کنگنوں میں سے کنگن بھیجے ، جب سیدنا شیث علیہ السلام سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئے ، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے دریافت کیا : کیا بنا ؟ انہوں نے کہا: آپ کے لئے خوشخبری ہے ، اس ( پروردگار ) نے مجھے یہ بتا دیا ہے کہ وہ آپ کو جنت کی طرف لوٹا دے گا ، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے کہا: تم نے اس سے ( یعنی پروردگار سے ) کوئی نشانی نہیں مانگی ؟ تو سیدنا شیث علیہ السلام نے کنگن نکال کے دکھائے ، سیدنا آدم علیہ السلام اسے پہچان گئنے اور روتے ہوئے سجدے میں چلے گے ، یہاں تک کہ ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی نہر جاری ہو گئی ، جس کے نشان اب بھی ہندوستان میں معروف ہیں ، یہ بات ذکر کی جاتی ہے کہ ہندوستان میں جو سونے کے خزانے ہیں ، وہ اس کنگن سے پیدا ہوئے ہیں ، پھر سیدنا آدم علیہ السلام نے کہا: تم میرے لئے اپنے پروردگار سے جنت کے پھل مانگو ، جب سیدنا شیث علیہ السلام ان کے پاس سے نکلے تو سیدنا آدم علیہ السلام کا انتقال ہو گیا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے دریافت کیا : آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ سیدنا شیث علیہ السلام نے جواب دیا : میرے والد نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں اپنے پروردگار سے یہ درخواست کروں کہ وہ انہیں جنت کے پھل کھلائے ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ان کے پروردگار نے یہ طے کیا ہے کہ وہ اس جنت میں سے کچھ بھی اس وقت تک نہیں کھا پائیں گے ، جب تک وہ دوبارہ اس کی طرف نہیں چلے جاتے اور اب ان کا انتقال ہو چکا ہے ، آپ واپس جائیں اور انہیں دفن کریں ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے ، انہوں نے سیدنا آدم علیہ السلام کو غسل دیا ، انہیں کفن دیا ، انہیں خوشبو لگائی اور ان کی نماز جنازہ پڑھی ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ لوگ اپنے مرحومین کے ساتھ اس طرح کیا کریں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13753
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً