حدیث نمبر: 13748
وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَفَعَهُ - قَالَ : " لَمَّا أَخْرَجَ اللَّهُ آدَمَ مِنَ الْجَنَّةِ ، زَوَّدَهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ وَعَلَّمَهُ صَنْعَةَ كُلِّ شَيْءٍ ، فَثِمَارُكُمْ هَذِهِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ ، غَيْرَ أَنَّ هَذِهِ تَغَيَّرُ وَتِلْكَ لَا تَتَغَيَّرُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالا ، تو انہیں زاد راہ کے طور پر جنت کے پھل دیے اور انہیں یہ تعلیم دی کہ انہوں نے ہر کام کیسے کرنا ہے ؟ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) تو تمہارے پھل جنت کے پھلوں کا حصہ ہیں ، البتہ یہ متغیر ( یعنی خراب ) ہو جاتے ہیں ، اور وہ متغیر نہیں ہوتے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13748
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2344)»