مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ قَضَاءِ الْحَوَائِجِ باب: حاجت ہوری کرنے کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ لِلَّهِ أَقْوَامًا اخْتَصَّهُمْ بِالنِّعَمِ لِمَنَافِعِ الْعِبَادِ ، يُقِرُّهُمْ فِيهَا مَا بَذَلُوهَا ، فَإِذَا مَنَعُوهَا نَزَعَهَا مِنْهُمْ فَحَوَّلَهَا إِلَى غَيْرِهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ لِينٌ ، وَلَكِنَّ شَيْخَهُ أَبُو عُثْمَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْحِمْصِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کو پیدا کیا ہے ، جنہیں اس نے لوگوں کے نفع کے لئے نعمتوں سے مخصوص کیا ہے ، وہ ان نعمتوں کو ان کے پاس اس وقت تک برقرار رکھتا ہے ، جب تک وہ لوگ ان کو خرچ کرتے رہتے ہیں ، جب وہ ان نعمتوں کو روک لیتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کو ان سے الگ کر دیتا ہے ، اور انہیں دوسرے لوگوں کی طرف منتقل کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسان سمتی ہے ، ابن معین اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں کمزوری پائی جاتی ہے ، تاہم اس کے استاد ابوعثمان عبداللہ بن زید حمصی کو ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔