مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ قَضَاءِ الْحَوَائِجِ باب: حاجت ہوری کرنے کی فضیلت کا بیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ مَشَى إِلَى حَاجَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً إِلَى أَنْ يَرْجِعَ مِنْ حَيْثُ فَارَقَهُ ، فَإِنْ قُضِيَتْ حَاجَتُهُ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، وَإِنْ هَلَكَ فَيَا مِنْ هَالِكٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے کام کے سلسلے میں چل کے جائے ، تو اللہ تعالیٰ اسے ہر ایک قدم ، جو اس نے اٹھایا ہو ، اس کے عوض میں ، اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کرے گا ، جب تک وہ وہاں واپس نہیں آ جاتا ، جہاں وہ اس سے جدا ہو گا ، اور اگر دوسرے شخص کی حاجت پوری ہو جاتی ہے تو وہ شخص اپنے گناہوں سے نکل کر یوں ہو جائے گا ، جیسے اس دن تھا ، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا اور اگر وہ اس دوران مارا جاتا ہے ، تو ایسے ہلاک ہونے والے کے کیا کہنے ؟ جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحیم بن زید عمی ہے اور وہ متروک ہے ۔