مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَلُّفِ باب: تکلف کی ممانعت
وَعَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي إِلَى سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، فَقَالَ سَلْمَانُ : لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ التَّكَلُّفِ لَتَكَلَّفْتُ لَكُمْ ، ثُمَّ جَاءَ بِخُبْزٍ وَمِلْحٍ ، فَقَالَ صَاحِبِي : لَوْ كَانَ فِي مِلْحِنَا صَعْتَرٌ ، فَبَعَثَ سَلْمَانُ بِمَطْهَرَتِهِ فَرَهَنَهَا ، ثُمَّ جَاءَ بِصَعْتَرٍ ، فَلَمَّا أَكَلْنَا قَالَ صَاحِبِي : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي قَنَّعَنَا بِمَا رَزَقَنَا . فَقَالَ سَلْمَانُ : لَوْ قَنَعْتَ بِمَا رَزَقَكَ لَمْ تَكُنْ مَطْهَرَتِي مَرْهُونَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں : میں اور میرا ایک ساتھی ، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اگر یہ بات نہ ہوتی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکلف سے منع کیا ہے ، تو میں نے تمہارے لئے تکلف کرنا تھا ، پھر وہ روٹی اور نمک لے کر آئے ، تو میرے ساتھی نے یہ کہا: اگر ہمارے نمک میں ” صعتر“ ہوتا تو مناسب تھا ، تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اپنی طہارت کا برتن منگوا کر اسے رہن رکھوایا اور پھر اس کے ذریعے ” صعتر“ لے کر آئے ، جب ہم نے کھانا کھا لیا ، تو میرے ساتھی نے کہا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جس نے ہمیں اس کے بارے میں قناعت عطا کی ، جو رزق اس نے ہمیں دیا ، تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اُس نے تمہیں جو رزق دیا تھا ، اگر تم نے اس پر قناعت کی ہوتی ، تو میرا طہارت کا برتن رہن نہیں رکھا جانا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن منصور طوسی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔