مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ باب: مہمان نوازی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . وَيَأْتِي فِي كِتَابِ الزُّهْدِ فِي بَابِ الصَّمْتِ حَدِيثُ عَائِشَةَ وَغَيْرِهَا . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے بھلائی کی بات کرنی چاہیے ، یا پھر خاموش رہنا چاہیے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے پڑوسی کی عزت افزائی کرنی چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔ کتاب الزہد میں ، خاموش رہنے سے متعلق باب میں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر کی نقل کردہ احادیث آگے آئیں گی ۔