مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ باب: مہمان نوازی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13619
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ ، وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے ، جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے بھلائی کی بات کہنی چاہیے ، ورنہ خاموش رہنا چاہیے ، اور مہمان نوازی ، تین دن تک ہو گی ، جو اس سے زیادہ ہو وہ صدقہ ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔