حدیث نمبر: 13614
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ " . قَالَهَا ثَلَاثًا ، قَالَ : وَمَا كَرَامَةُ الضَّيْفِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَا جَلَسَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مُطَوَّلًا هَكَذَا وَمُخْتَصَرًا بِأَسَانِيدَ ، وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مہمان کی عزت افزائی سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تین دن تک ( مہمان نوازی کرنا ) اگر مہمان اس کے بعد بھی رہے ، تو یہ اس پر صدقہ ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اسے مختصر روایت کے طور پر بھی مختلف اسانید کے ساتھ نقل کیا ہے ، ایک روایت کو امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے بھی نقل کیا ہے ، امام أحمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13614
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1931) اخرجه أبو يعلى فى المسند (1244) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (76/3)»