مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ باب: مہمان نوازی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13612
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لِلضَّيْفِ عَلَى مَنْ نَزَلَ بِهِ مِنَ الْحَقِّ ثَلَاثٌ ، فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ ، وَعَلَى الضَّيْفِ أَنْ يَرْتَحِلَ لَا يُؤْثِمُ أَهْلَ مَنْزِلِهِ " . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مہمان کا میزبان پر حق تین دن تک ہوتا ہے ، جو اس سے زیادہ ہو ، تو وہ صدقہ ہو گا ، تاہم مہمان پر یہ لازم ہے کہ وہ روانہ ہو جائے ، اور میزبان کے گھر والوں کو گناہگار نہ کرے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں کہ
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔