مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ ثَانٍ . باب: اس مضمون سے متعلق دیگر روایات
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ، وَصَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، وَحَجَّ الْبَيْتَ - لَا أَدْرِي ذَكَرَ الزَّكَاةَ أَمْ لَا - كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ " . قُلْتُ : أُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَرِ النَّاسَ يَعْمَلُونَ ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ مِائَةُ دَرَجَةٍ ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلَاهَا دَرَجَةً وَأَوْسَطُهَا ، وَفَوْقَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ ، وَفِيهَا تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاذٍ ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي فِي الْبَابِ بَعْدَ هَذَا أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَيْضًا . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص رمضان کے روزے رکھے ، پانچ نمازیں ادا کرے ، بیت اللہ کا حج کرے ( راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے زکوٰۃ کا ذکر کیا تھا ، یا نہیں کیا تھا ؟ ) تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اُس شخص کی مغفرت کر دے ( سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رحمہ اللہ ) میں نے عرض کی : میں لوگوں کو یہ بات بتا دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں کو رہنے دو کہ وہ عمل کرتے رہیں ! کیونکہ جنت میں ایک سو درجات ہیں ، اور اُن میں سے ، ہر دو ، درجات کے درمیان ، اتنا فاصلہ ہے ، جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے اور جنت الفردوس سب سے بلند اور عمدہ درجے کی ہے ، اُس کے اوپر ، رحمان کا عرش ہے ، اور اُسی میں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں ، ، جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو ، تو اُس سے جنت الفردوس ( کی دعا ) مانگو ! “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اسے عطاء بن یسار نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، حالانکہ انہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد والے باب میں ، ایسی احادیث آئیں گی ، جو اس باب سے تعلق رکھتی ہیں ۔