مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ الزِّيَارَةِ وَإِكْرَامِ الزَّائِرِينَ باب: کسی سے ملنے کے لئے جانا ، اور ملنے کے لئے آنے والوں کا احترام کرنا
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ أَتَى أَخَاهُ يَزُورُهُ فِي اللَّهِ إِلَّا نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ طِبْتَ وَطَابَتْ لَكَ الْجَنَّةُ . وَإِلَّا قَالَ اللَّهُ فِي مَلَكُوتِ عَرْشِهِ : عَبْدِي زَارَنِي فِيَّ وَعَلَيَّ قِرَاهُ . فَلَمْ يَرْضَ لَهُ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَيْمُونِ بْنِ عَجْلَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی مسلمان بندہ ، اپنے بھائی سے ملنے کے لیے جاتا ہے ، اور وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اُس سے ملنے جاتا ہے ، تو آسمان میں سے ایک منادی اُسے پکار کر کہتا ہے : تم پاکیزہ ہوئے اور جنت تمہارے لئے پاکیزہ ہو گئی ، اور اللہ تعالیٰ اپنے عرش کی بادشاہی میں یہ ارشاد فرماتا ہے : ” میرا بندہ ، میری ذات کے لئے مجھ سے ملنے گیا ہے ، اس کی مہمان نوازی میرے ذمہ ہے ۔ “ تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کے لئے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف میمون بن عجلان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔