مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَشْبَعُ وَجَارُهُ جَائِعٌ باب: اس شخص کا بیان ، جو سیر ہو اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو
وَعَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ قَالَ : بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَعْدًا لَمَّا بَنَى الْقَصْرَ قَالَ : انْقَطَعَ الصُّوَيْتُ . فَبَعَثَ إِلَيْهِ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ فَلَمَّا قَدِمَ أَخْرَجَ زِنْدَهُ ، وَأَوْرَى نَارَهُ ، وَابْتَاعَ حَطَبًا بِدِرْهَمٍ ، وَقِيلَ لِسَعْدٍ : إِنَّ رَجُلًا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا . قَالَ : ذَاكَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ . فَخَرَجَ إِلَيْهِ ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ مَا قَالَهُ ، فَقَالَ : نُؤَدِّي عَنْكَ الَّذِي تَقُولُهُ وَتَفْعَلُ مَا أُمِرْنَا بِهِ . وَأَقْبَلَ عَلَيْهِ يَعْرِضُ عَلَيْهِ أَنْ يَزُورَهُ ، فَأَبَى ، فَخَرَجَ عَلَى عُمَرَ ، فَهَجَّرَ إِلَيْهِ ، فَسَارَ ذَهَابُهُ وَرُجُوعُهُ تِسْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ، فَقَالَ : لَوْلَا حُسْنُ الظَّنِّ بِكَ لَرَأَيْنَا أَنَّكَ لَمْ تُؤَدِّ عْنَا . قَالَ : بَلَى أَرْسَلَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَعْتَذِرُ وَيَحْلِفُ بِاللَّهِ مَا قَالَ . قَالَ : فَهَلْ زَوَّدَكَ شَيْئًا ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تُزَوِّدَنِي أَنْتَ ؟ قَالَ : إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ آمُرَ لَكَ ، فَيَكُونُ لَكَ الْبَارِدُ وَيَكُونُ عَلَيَّ الْحَارُّ ، وَحَوْلِي أَهْلُ الْمَدِينَةِ وَقَدْ قَتَلَهُمُ الْجُوعُ ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَشْبَعُ الرَّجُلُ دُونَ جَارِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِبَعْضِهِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ عَبَايَةَ بْنَ رِفَاعَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ . ¤عبایہ بن رفاعہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ایک گھر بنایا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : ہلکی آواز منقطع ہو گئی ، سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں پیغام بھیجا ، جب وہ آئے تو انہوں نے اپنی لکڑی کو نکالا اور اس کو جلایا ، اور ایک درہم کے عوض میں لکڑیاں خرید لیں ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا : ان صاحب نے ایسا ایسا کیا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : وہ محمد بن مسلمہ ہے ، پھر وہ نکل کر ان کے پاس آئے اور انہوں نے اللہ کے نام پر حلف اٹھایا کہ انہوں نے یہ بات نہیں کہی ہے ، تو انہوں نے یہ کہا: کہ ہم آپ کی طرف سے اُس چیز کو ادا کر دیں گے ، جو آپ کہہ رہے ہیں اور وہ کام کر لیں گے جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے ، انہوں نے دروازے کو جلا دیا ، پھر وہ ایک بات کی طرف متوجہ ہوئے کہ انہیں زاد سفر دیں ، انہوں نے وہ لینے سے انکار کر دیا ، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جانے کے لئے نکلے وہ ان کے پاس جلدی چلے گئے ، ان کا جانا اور واپس آنا ، اُنیس دن میں ہوا ، تو انہوں نے فرمایا : اگر آپ کے بارے میں اچھا گمان نہ ہوتا ، تو ہم یہ سمجھتے کہ آپ نے ہماری طرف سے ادائیگی نہیں کی ہے ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے آپ کو سلام بھیجا ہے ، اور معذرت پیش کی ہے ، اور اللہ کے نام پر یہ حلف اٹھایا ہے کہ انہوں نے یہ بات نہیں کہی ہے ، انہوں نے دریافت کیا : کیا انہوں نے تمہیں کوئی چیز زاد سفر کے طور پر دی ہے ، انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! انہوں نے کہا: تمہیں کس چیز نے اس بات سے منع کیا کہ تم مجھے کوئی چیز زاد سفر کے طور پر دیتے ، تو انہوں نے کہا: مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں آپ کے لئے کوئی چیز دینے کا حکم دوں اور ٹھنڈک آپ کو مل جائے اور گرمی میرے ذمہ ہو جائے ، میرے اردگرد بہت سے اہل مدینہ ہیں ، جنہیں بھوک مار رہی ہے ، اور میں نے اللہ کے رسول کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” آدمی اپنے پڑوسی کو چھوڑ کر خود سیر نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، تاہم عبایہ بن رفاعہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔