مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ إِكْرَامِ الْجَارِ باب: پڑوسی کا احترام کرنا
حدیث نمبر: 13553
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَحْفَظْ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . قُلْتُ : وَبَقِيَّةُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فِي الضِّيَافَةِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ اپنے مہمان کی عزت افزائی کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ اپنے پڑوسی کی حفاظت کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ بھلائی کی بات کرے ، یا پھر خاموش رہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس بارے میں بقیہ احادیث ضیافت سے متعلق باب میں آئیں گی ۔