مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ حَقِّ الْجَارِ وَالْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ باب: پڑوسی کا حق اور پڑوسی کے بارے میں وصیت ( یعنی تلقین )
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجِيرَانُ ثَلَاثَةٌ : جَارٌ لَهُ حَقٌّ وَاحِدٌ وَهُوَ أَدْنَى الْجِيرَانِ ، وَجَارٌ لَهُ حَقَّانِ ، وَجَارٌ لَهُ ثَلَاثَةُ حُقُوقٍ ، فَأَمَّا الَّذِي لَهُ حَقٌّ وَاحِدٌ فَجَارٌ مُشْرِكٌ لَا رَحِمَ لَهُ ، لَهُ حَقُّ الْجِوَارِ ، وَأَمَّا الَّذِي لَهُ الْحَقَّانِ فَجَارٌ مُسْلِمٌ لَهُ حَقُّ الْإِسْلَامِ وَحَقُّ الْجِوَارِ ، وَأَمَّا الَّذِي لَهُ ثَلَاثَةُ حُقُوقٍ : فَجَارٌ مُسْلِمٌ ذُو رَحِمٍ ، لَهُ حَقُّ الْإِسْلَامِ وَحَقُّ الْجِوَارِ وَحَقُّ الرَّحِمِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيِّ ، وَهُوَ وَضَّاعٌ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پڑوسی تین قسم کے ہوتے ہیں ، وہ پڑوی ، جس کا ایک حق ہوتا ہے ، اور یہ پڑوسیوں میں سب سے زیادہ کم تر ( حق والا ) ہوتا ہے ، ایک وہ پڑوسی جس کے دو حق ہوتے ہیں ، اور ایک وہ پڑوسی ، جس کے تین حقوق ہوتے ہیں ، جہاں تک اس کا تعلق ہے ، جس کا ایک حق ہوتا ہے ، تو وہ ایسا مشرک پڑوسی ہے ، جس کے ساتھ کوئی رشتہ داری نہ ہو ، تو اس کے لئے پڑوسی کا حق ہوتا ہے ، جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے ، جس کے دو حق ہوتے ہیں ، تو وہ مسلم پڑوسی ہے ، اُسے اسلام کا حق حاصل ہوتا ہے ، اور پڑوس کا حق حاصل ہوتا ہے ، جہاں تک اس کا تعلق ہے ، جسے تین حقوق حاصل ہوتے ہیں ، تو وہ ایسا مسلمان پڑوسی ہے ، جو رشتہ دار بھی ہو ، اُسے اسلام کا حق حاصل ہوتا ہے ، پڑوس کا حق حاصل ہوتا ہے ، اور رشتہ داری کا حق حاصل ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد حارثی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ۔