مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَيْتَامِ وَالْأَرَامِلِ وَالْمَسَاكِينِ باب: یتیموں ، بیواؤں اور غریبوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13528
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِمَّا أَضْرِبُ يَتِيمِي ؟ قَالَ : " مِمَّا كُنْتَ ضَارِبًا مِنْهُ وَلَدَكَ غَيْرَ وَافٍ مَالَكَ بِمَالِهِ ، وَلَا مُتَأَثِّلٍ مِنْ مَالِهِ مَالًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کس وجہ سے اپنے زیر پرورش یتیم کی پٹائی کر سکتا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کام کی وجہ سے ، جس کی وجہ سے تم اپنی اولاد کی پٹائی کرتے ، جبکہ تم اپنے مال کو اس کے مال کے ذریعے زیادہ کرنے والے نہ ہو ، یا اس کے مال کے ذریعے اپنے مال کو جمع کرنے والے نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن مہدی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔