مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَيْتَامِ وَالْأَرَامِلِ وَالْمَسَاكِينِ باب: یتیموں ، بیواؤں اور غریبوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَسَحَ عَلَى رَأْسِ يَتِيمٍ ، لَمْ يَمْسَحْهُ إِلَّا لِلَّهِ ، كَانَ لَهُ فِي كُلِّ شَعْرَةٍ مَرَّتْ عَلَيْهَا يَدُهُ حَسَنَاتٌ ، وَمَنْ أَحْسَنَ إِلَى يَتِيمَةٍ أَوْ يَتِيمٍ عِنْدَهُ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ " . وَفَرَّقَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے اور وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہاتھ پھیرے ، تو اس کا ہاتھ جس بھی بال پر سے گزرتا ہے ، ہر ایک بال کے عوض میں اسے نیکیاں ملتی ہیں اور جو شخص کسی یتیم بچی یا یتیم بچے کے ساتھ اچھا سلوک کرے جو اس کے زیر پرورش ہو ، تو وہ اور میں جنت میں ان دو ( انگلیوں ) کی طرح ہوں گے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی الگ کر کے ( یہ بات ارشاد فرمائی تھی ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔