مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَوْلَادِ باب: اولاد کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ ، فَخَرَجَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي عُنُقِهِ خِرْقَةٌ يَجُرُّهَا ، فَعَثَرَ فِيهَا فَسَقَطَ عَلَى وَجْهِهِ ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمِنْبَرِ يُرِيدُهُ ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ أَخَذُوا الصَّبِيَّ فَأَتَوْهُ بِهِ ، فَأَخَذَهُ وَحَمَلَهُ فَقَالَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الشَّيْطَانَ ، إِنَّ الْوَلَدَ فِتْنَةٌ ، وَاللَّهِ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنِّي نَزَلْتُ عَنِ الْمِنْبَرِ حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ حَسَنٍ ، وَلَمْ يَنْسُبْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَارُودِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا آپ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے ، اسی دوران سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما ( جو اس وقت بچے تھے ) وہ آئے ، ان کی گردن میں ایک کپڑا تھا جسے وہ کھینچ رہے تھے اور اس کی وجہ سے انہیں ٹھوکر لگی اور وہ گر گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اُتر کر ان کی طرف جانے لگے ، جب لوگوں نے یہ صورت حال ملاحظہ کی تو انہوں نے بچے کو پکڑ لیا اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لیا اور گود میں بٹھا کر ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ شیطان کو برباد کرے ! اولاد آزمائش ہے ، اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم ! میں یہی بات جانتا ہوں ، میں منبر سے نیچے اترا ، یہاں تک اسے لے آیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور اس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا اور اس کے حوالے سے اسے عبداللہ بن علی جارودی سے نقل کیا ہے ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔