مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَوْلَادِ باب: اولاد کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَفْدِ كِنْدَةَ ، فَقَالَ لِي : " هَلْ لَكَ مِنْ وَلَدٍ ؟ " . قُلْتُ : غُلَامٌ وُلِدَ لِي فِي مُخْرَجِي إِلَيْكَ مِنَ ابْنَةِ جَمَدٍ ، وَلَوَدِدْتُ أَنَّ مَكَانَهُ شِبَعَ الْقَوْمِ . قَالَ : " لَا تَقُلْ ذَاكَ ، فَإِنَّهُ فِيهِمْ قُرَّةَ عَيْنٍ ، وَأَجْرًا إِذَا قُبِضُوا ، ثُمَّ لَئِنْ قُلْتُ ذَلِكَ إِنَّهُ لَمَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ ، إِنَّهُمْ لَمَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” کندہ “ کے وفد کے ہمراہ حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : کیا تمہاری اولاد ہے ؟ میں نے عرض کی : جب میں آپ کی طرف نکل کر آنے والا تھا ، تو اس وقت میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے ، جو جمد کی صاحبزادی سے ہوا ہے ، میری یہ خواہش تھی کہ اس کی جگہ مجھے یہ چیز مل جاتی ہے کہ میں لوگوں کو سیر ہو کے کھانا کھلا سکتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ بات نہ کہو ، اولاد میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے اور اگر اولاد کا انتقال ہو جائے تو اجر بھی ہوتا ہے ، تم یہ بات کہتے ہو ، اولاد تو آدمی کو بزدل اور غمگین کر دیتی ہے ، اولاد تو بزدل اور غمگین کر دیتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گی ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔