حدیث نمبر: 13472
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا تَأْخُذَنِي فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ ، وَأَوْصَانِي بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنْ أَدْبَرَتْ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَلَامِ بْنِ الْمُنْذِرِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت مجھے اپنی گرفت میں نہ لے اور آپ نے مجھے صلہ رحمی کرنے کی تلقین کی تھی ، اگرچہ ( دوسرا رشتہ دار ) پیٹھ پھیر رہا ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، یہ امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سلام بن منذر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13472
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (758) أخرجه البزار فى المسند (3309) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1649 و 1648) اخرجه احمد فى المسند (15/5)»