مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَقَطْعِهَا باب: رشتے داری کے حقوق کا خیال کرنا ، اور انہیں پامال کرنا
وَعَنْ رَجُلٍ مَنْ خَثْعَمَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ : أَنْتَ الَّذِي تَزْعُمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ صِلَةُ الرَّحِمِ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ الْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَبْغَضُ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ قَطِيعَةُ الرَّحِمِ "قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : ثُمَّ الْأَمْرُ بِالْمُنْكَرِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمَعْرُوفِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ الطَّاحِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اپنے اصحاب کے درمیان موجود تھے ، میں نے عرض کی : آپ ہی وہ ہیں ؟ جو یہ کہتے ہیں : کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ پسندیدہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : پھر کون سا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر صلہ رحمی کرنا ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : پھر نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : کسی کو اللہ کا شریک قرار دینا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر کون سا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : برائی کے بارے میں حکم دینا اور نیکی سے منع کرنا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نافع بن خالد طاحی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔