مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَقَطْعِهَا باب: رشتے داری کے حقوق کا خیال کرنا ، اور انہیں پامال کرنا
حدیث نمبر: 13451
وَعَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ جَالِسًا بَعْدَ الصُّبْحِ فِي حَلْقَةٍ ، قَالَ : " أُنْشِدُ اللَّهَ قَاطِعَ رَحِمٍ لَمَا قَامَ عَنَّا ; فَإِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَدْعُوَ رَبَّنَا ، وَإِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ مُرْتَجَةٌ دُونَ قَاطِعِ رَحِمٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْأَعْمَشَ لَمْ يُدْرِكِ زَمَنَ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤محمد محی الدین
اعمش بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے بعد حلقے میں بیٹھ جاتے تھے اور یہ فرماتے تھے : ” رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے والے شخص کو میں اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ وہ ہمارے پاس سے اُٹھ جائے کیونکہ اب ہم اپنے پروردگار سے دعا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور آسمان کے دروازے رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے والے شخص کے لئے بند رہتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اعمش نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔