مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَقَطْعِهَا باب: رشتے داری کے حقوق کا خیال کرنا ، اور انہیں پامال کرنا
حدیث نمبر: 13448
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الرَّحِمَ حُجْنَةٌ مُتَمَسِّكَةٌ بِالْعَرْشِ تَكَلَّمُ بِلِسَانٍ ذَلْقٍ : اللَّهُمَّ صِلْ مَنْ وَصَلَنِي ، وَاقْطَعْ مَنْ قَطَعَنِي . فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : أَنَا الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ ، [وَإِنِّي] شَقَقْتُ لِلرَّحِمِ مِنَ اسْمِي ، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ ، وَمَنْ بَتَكَهَا بَتَكْتُهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک رحم ایک شعبہ ہے ، جس نے عرش کو تھاما ہوا ہے ، وہ فصیح زبان میں بات چیت کرے گا اور یہ کہے گا : اے اللہ ! تو اس کو ملا ، جس نے مجھے ملایا اور تو اس کو کاٹ دے ، جس نے مجھے کاٹا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں رحمان و رحیم ہوں اور میں نے رحم ( یعنی رشتے داری ) کے لئے اپنے اسم سے متعلق نام تجویز کیا ہے ، تو جو شخص اس کو ملائے گا تو میں اسے ملاؤں گا اور جو شخص اس کے ٹکڑے کرے گا ، میں اسے کاٹ دوں گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔