مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَقَطْعِهَا باب: رشتے داری کے حقوق کا خیال کرنا ، اور انہیں پامال کرنا
حدیث نمبر: 13446
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الرَّحِمُ شِجْنَةٌ آخِذَةٌ بِحُجْزَةِ الرَّحْمَنِ ، تُنَاشِدُهُ حَقَّهَا فَيَقُولُ : أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ؟ مَنْ وَصَلَكِ فَقَدْ وَصَلَنِي وَمَنْ قَطَعَكِ فَقَدْ قَطَعَنِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رحم ایک شعبہ ہے ، جو رحمان کو تھامے ہوئے ہو گا ، اور اپنے حق کے بارے میں اس کی بارگاہ میں مناجات کرے گا تو پروردگار فرمائے گا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ جو تمہیں ملائے گا ، میں اُسے ملاؤں گا اور جو تمہیں کاٹے گا ، میں اُسے کاٹ دوں گا ، اور جو تمہیں ملائے گا ، وہ مجھ سے مل جائے گا اور جو تمہیں کاٹے گا ، مجھ سے لاتعلق ہو جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔