مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَقَطْعِهَا باب: رشتے داری کے حقوق کا خیال کرنا ، اور انہیں پامال کرنا
حدیث نمبر: 13444
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ أَرْبَى الرِّبَا الِاسْتِطَالَةُ فِي عِرْضِ الْمُسْلِمِ بِغَيْرِ حَقٍّ ، وَإِنَّ هَذِهِ الرَّحِمَ شِجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَمَنْ قَطَعَهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب سے بڑا سود ( یعنی سب سے بڑا گناہ ) یہ ہے کہ کسی مسلمان کی عزت پر ناحق حملہ کیا جائے ، اور بے شک رحم ( یعنی رشتے داری ) رحمان ( کے فضل ) کا حصہ ہے ، جو شخص اس کو کاٹتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام قرار دے دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نوفل بن مساحق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔