مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَقَطْعِهَا باب: رشتے داری کے حقوق کا خیال کرنا ، اور انہیں پامال کرنا
حدیث نمبر: 13442
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تُوضَعُ الرَّحِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهَا حُجْنَةٌ كَحُجْنَةِ الْمِغْزَلِ تَكَلَّمُ بِلِسَانٍ طَلْقٍ ذَلْقٍ ، فَتَصِلُ مَنْ وَصَلَهَا وَتَقْطَعُ مَنْ قَطَعَهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ أَبِي ثُمَامَةَ الثَّقَفِيِّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن رحم ( یعنی رشتے داری ) کو یوں رکھا جائے گا کہ اس کا سوت کاتنے کے آلے کی طرح کا خمدار وجود ہو گا ، اور وہ تیز اور فصیح زبان میں بات چیت کرے گا اور وہ اس کو ملائے گا ، جس نے اسے ملا کے رکھا ہو گا اور اسے کاٹ دے گا ، جس نے اُسے کاٹ کے رکھا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوثمامہ ثقفی کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔