مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ . باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو نہ کرنا
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : أَتَيْنَا بِقَصْعَةٍ وَنَحْنُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ فِي الطَّرِيقِ ، فَأَكَلَ مِنْهَا وَأَكَلْنَا مَعَهُ ، وَجَعَلَ يَدْعُو مَنْ مَرَّ بِهِ ، ثُمَّ مَضَيْنَا إِلَى الصَّلَاةِ ، فَمَا زَادَ عَلَى أَنْ غَسَلَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ وَمَضْمَضَ فَاهُ ، ثُمَّ صَلَّى . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : أُتِينَا بِقَصْعَةٍ مِنْ بَيْتِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ . فَذَكَرَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُمَا مُوَثَّقُونَ . ¤علقمہ بیان کرتے ہیں : ہم ایک بڑا برتن لے کر آئے ، ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، انہوں نے اس برتن کے بارے میں حکم دیا ، تو وہ راستے میں رکھ دیا گیا ، انہوں نے اس میں سے کھایا ، اُن کے ساتھ ہم نے بھی کھایا ، وہ ہر گزرنے والے فرد کو بھی دعوت دے دیتے ، پھر ہم نماز ادا کرنے کے لئے گئے ، تو انہوں نے صرف یہ کیا کہ انگلیوں کے کونے دھو لیے اور منہ میں کلی کر لی ، اور پھر نماز ادا کی ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر سے ایک برتن ہمارے پاس لایا گیا ، جس میں روٹی اور گوشت موجود تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ان دونوں روایات کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔