مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعُقُوقِ باب: ( والدین کی ) نافرمانی کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ : شَابٌّ يَجُودُ بِنَفْسِهِ . قِيلَ لَهُ : قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ : فَلَمْ يَسْتَطِعْ ، فَقَالَ : " كَانَ يُصَلِّي ؟ " . فَقَالَ : نَعَمْ : فَنَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَهَضْنَا مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى الشَّابِّ فَقَالَ لَهُ : " قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . فَقَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ . قَالَ : " لِمَ ؟ " . قَالَ : كَانَ يَعُقُّ وَالِدَيْهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَحَيَّةٌ وَالِدَتُهُ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " ادْعُوهَا " . فَدَعَوْهَا فَجَاءَتْ ، فَقَالَ : " هَذَا ابْنُكِ ؟ " . فَقَالَتْ : نَعَمْ . فَقَالَ لَهَا : " أَرَأَيْتِ لَوْ أُجِّجَتْ نَارٌ ضَخْمَةٌ فَقِيلَ لَكِ : إِنْ شَفَعْتِ لَهُ خَلَّيْنَا عَنْهُ وَإِلَّا حَرَقْنَاهُ بِهَذِهِ النَّارِ ، أَكُنْتِ تَشْفَعِينَ لَهُ ؟ " . قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذًا أَشْفَعُ . قَالَ : " فَأَشْهِدِي اللَّهَ وَأَشْهِدِينِي أَنَّكِ قَدْ رَضِيتِ عَنْهُ " . فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ وَأُشْهِدُ رَسُولَكَ أَنِّي قَدْ رَضِيتُ عَنِ ابْنِي . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا غُلَامُ قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . فَقَالَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ [بِي] مِنَ النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَفِيهِ فَائِدٌ أَبُو الْوَرْقَاءِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، ایک شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے بتایا : ایک نوجوان ہے ، جو آخری سانسیں لے رہا ہے ، اس سے کہا: گیا : تم لا الہ الا اللہ پڑھو ، تو وہ یہ ( کلمہ ) نہیں پڑھ سکا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ نماز پڑھا کرتا تھا ؟ اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، آپ کے ساتھ ہم بھی اُٹھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس نوجوان کے پاس تشریف لائے ، آپ نے اس سے فرمایا : تم لا الہ الا اللہ پڑھو ! اُس نے کہا: میں یہ نہیں پڑھ سکتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : وہ شخص اپنے والدین کا نافرمان تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا اس کی ماں زندہ ہے ؟ لوگوں نے بتایا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اُسے بلا کر لاؤ ! وہ لوگ اس خاتون کو بلا کے لائے ، وہ آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا یہ تمہارا بیٹا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے دریافت کیا : اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کہ اگر آگ سلگائی جائے اور پھر تم سے یہ کہا: جائے : کہ اگر تم اس بچے کی سفارش کرو گی ، تو ہم اسے چھوڑ دیں گے ، ورنہ ہم اسے اس آگ میں جلا دیں گے ، تو کیا تم اس کی سفارش کر دو گی ؟ اس عورت نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسی صورت میں ، میں سفارش کر دوں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم اللہ کو اور مجھے گواہ بنا کر یہ کہو : کہ تم اس سے راضی ہو ، اس عورت نے کہا: اے اللہ ! میں تجھے گواہ بناتی ہوں اور تیزے رسول کو گواہ بناتی ہوں کہ میں اپنے بیٹے سے راضی ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس نوجوان سے کہا: اے لڑکے ! اب تم پڑھو : اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو اس نوجوان نے وہ کلمہ پڑھ لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے میرے ذریعے اس کو جہنم سے نجات عطا کر دی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فائد ابوورقاء ہے اور وہ متروک ہے ۔