حدیث نمبر: 134
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ أَصْحَابَهُ عِنْدَ صَلَاةِ الْعَتَمَةِ : أَنِ احْشُدُوا لِلصَّلَاةِ غَدًا ، فَإِنَّ لِي إِلَيْكُمْ حَاجَةً ، فَقَالَ رُفْقَةٌ مِنْهُمْ : يَا فُلَانُ ، دُونَكَ أَوَّلَ كَلِمَةٍ يَتَكَلَّمُ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْتَ الَّتِي تَلِيهَا ، لِئَلَّا يَفُوتَهُمْ شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا فَرَغُوا مِنْ صَلَاتِهِمْ قَالَ : " هَلْ حَشَدْتُمْ كَمَا أَمَرْتُكُمْ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " اعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ ؟ هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ ؟ هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " أَقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَآتُوا الزَّكَاةَ . أَقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَآتُوا الزَّكَاةَ . أَقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَآتُوا الزَّكَاةَ . هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ ؟ هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ ؟ هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا ، اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا ، اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا . هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ ؟ هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ ؟ هَلْ عَقَلْتُمْ هَذِهِ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، فَكُنَّا نَرَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيَتَكَلَّمُ كَلَامًا كَثِيرًا ، ثُمَّ نَظَرَ فِي كَلَامِهِ ، فَإِذَا هُوَ قَدْ جَمَعَ لَنَا الْأَمْرَ كُلَّهُ . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ بَعْضُهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ایک مرتبہ ) عشاء کی نماز کے وقت ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ کل صبح تم نے نماز کے وقت تیار رہنا ہے ، مجھے تم لوگوں سے ایک کام ہے ، تو ان لوگوں میں سے کچھ نے یہ کہا: اے فلاں ! تم نے اس چیز کا خیال رکھنا ہے ، جو کلمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے ارشاد فرمائیں گے ، دوسرے کلمے کا خیال تم نے رکھنا ہے ، اُن لوگوں کا مقصد یہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو میں سے کوئی چیز رہ نہ جائے ، ( اگلے دن صبح ) جب وہ لوگ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ اسی طرح تیار ہو ؟ جس طرح میں نے تمہیں ہدایت کی تھی ، اُن لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ ! کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ نماز قائم کرو ، زکوٰۃ ادا کرو ، تم لوگ نماز قائم کرو ، زکوۃ ادا کرو ، تم لوگ نماز قائم کرو زکوٰۃ ادا کرو ، کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اطاعت و فرمانبرداری کرو ، تم لوگ اطاعت و فرمانبرداری کرو ، تم لوگ اطاعت و فرمانبرداری کرو ، کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ کیا تمہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں !
راوی بیان کرتے ہیں : ہم تو یہ سمجھ رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طویل گفتگو کریں گے ، لیکن جب ہم نے آپ کے کلام کا جائزہ لیا ، تو یہ بات سامنے آئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے معاملے کو ( یعنی دین کی بنیادی تعلیمات کو ) ہمارے لئے جمع کر دیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن زبریق حمصی ہے ، یحییٰ بن معین اور ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام نسائی رحمہ اللہ اور امام ابوداؤد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 134
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7678»