حدیث نمبر: 1327
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَيْضًا أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِ فَاطِمَةَ ، فَنَاوَلَتْهُ كَتِفَ شَاةٍ مَطْبُوخَةٍ فَأَكَلَهَا ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَأَخَذَتْ ثِيَابَهُ ، فَقَالَتْ : أَلَا تَوَضَّأُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مِمَّ يَا بُنَيَّةُ ؟ " قَالَتْ : قَدْ أَكَلْتَ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ . قَالَ : " إِنَّ أَطْهَرَ طَعَامِكُمْ لَمَا مَسَّتْهُ النَّارُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بکری کے شانے کا پکا ہوا گوشت پیش کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کھا لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر نماز ادا کرنے لگے ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ وضو نہیں کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے میری بیٹی ! کس وجہ سے ؟ انہوں نے عرض کی : آپ نے آگ پر پکی ہوئی چیز کھائی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے کھانے میں سب سے زیادہ پاکیزہ وہ ( کھانا ) ہوتا ہے ، جو آگ پر پکا ہو ۔ اس روایت کو امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، وہ تدلیس کرنے والا ہے ، لیکن ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1327
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔