حدیث نمبر: 1315
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكَلَ طَعَامًا ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ وَقَدْ كَانَ تَوَضَّأَ قَبْلَ ذَلِكَ ، فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ لِيَتَوَضَّأَ مِنْهُ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ : " وَرَاءَكَ " فَسَاءَنِي وَاللَّهِ ذَلِكَ ، ثُمَّ صَلَّى ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِ انْتِهَارُكَ إِيَّاهُ ، وَخَشِيَ أَنْ يَكُونَ فِي نَفْسِكَ عَلَيْهِ شَيْءٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ عَلَيْهِ فِي نَفْسِي إِلَّا خَيْرٌ ، وَلَكِنْ أَتَانِي بِمَاءٍ لِأَتَوَضَّأَ ، وَإِنَّمَا أَكَلْتُ طَعَامًا ، وَلَوْ فَعَلْتُ فَعَلَ النَّاسُ ذَلِكَ بَعْدِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا ، پھر نماز کھڑی ہوئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ گئے ، آپ اس سے پہلے وضو کر چکے تھے ، میں آپ کے لئے پانی لے کر آیا ، تاکہ آپ اُس سے وضو کریں ، تو آپ نے مجھے ڈانٹا اور فرمایا : پیچھے کرو ! ( راوی بیان کرتے ہیں ) اللہ کی قسم مجھے یہ بات بہت گراں گزری ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی ، میں نے اس کی شکایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کی ، تو انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ نے مغیرہ کو جو ڈانٹا ہے ، وہ اسے گراں گزرا ہے ، اسے یہ اندیشہ ہے کہ شاید آپ اُس سے ناراض ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے من میں صرف بھلائی ہے ، یہ میرے پاس پانی لے کر آیا تھا کہ میں وضو کروں ، میں نے کھانا کھایا تھا ، اگر میں ایسا کر لیتا ، تو میرے بعد لوگوں نے بھی ایسا ہی کرنا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1315
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح