مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُتَّقَى شَرُّهُ وَلَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَعَكْسُهُ باب: اس شخص کا بیان جس کے شر سے بچاتا ہے ، اور جس سے بھلائی کی توقع نہیں رکھی جاتی ہے یا جو اس کے برعکس ہو
حدیث نمبر: 13112
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " شِرَارُكُمْ مَنْ يُتَّقَى شَرُّهُ ، وَلَا يُرْجَى خَيْرُهُ ، وَخِيَارُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ ، وَلَا يُتَّقَى شَرُّهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کیا میں تمہیں تمہارے سب سے برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے سب سے برے لوگ وہ ہیں کہ جن کے شر سے بچنے کی کوشش کی جائے اور ان سے بھلائی کی توقع نہ رکھی جائے اور تمہارے سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جن سے بھلائی کی توقع رکھی جائے اور جن کے شر سے بچنے کی ضرورت نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے اور وہ متروک ہے ۔