حدیث نمبر: 13073
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَا مِنْ آدَمِيٍّ إِلَّا وَفِي رَأْسِهِ سِلْسِلَتَانِ . سِلْسِلَةٌ إِلَى السَّمَاءِ وَسِلْسِلَةٌ إِلَى الْأَرْضِ ، فَإِنْ تَوَاضَعَ رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالسِّلْسِلَةِ الَّتِي فِي السَّمَاءِ ، وَإِذَا تَجَبَّرَ وَضَعَهُ اللَّهُ بِالسِّلْسِلَةِ الَّتِي فِي الْأَرْضِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر انسان کے سر میں دو زنجیریں ہوتی ہیں ایک زنجیر آسمان کی طرف جا رہی ہوتی ہے ، اور ایک زنجیر زمین کی طرف جا رہی ہوتی ہے ، جب وہ تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی اس زنجیر کو بلند کر دیتا ہے ، جو اس کے سر میں ہوتی ہے ، اور جب وہ شخص تکبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی اُس زنجیر کو پست کر دیتا ، جو زمین ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے زیادہ تر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13073
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3581)»