مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا . باب: اونٹ کا گوشت کھانے یا اُس کا دودھ پینے کے بعد وضو کرنا
عَنْ ذِي الْغُرَّةِ قَالَ : عَرَضَ أَعْرَابِيٌّ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُدْرِكُنَا الصَّلَاةُ وَنَحْنُ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ ، فَنُصَلِّي فِيهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا " . قَالَ : فَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَنُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ " . قَالَ : أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا ؟ قَالَ : " لَا " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَسَمَّاهُ يَعِيشَ الْجُهَنِيَّ ، وَيُعْرَفُ بِذِي الْغُرَّةِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا ذی غرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چل رہے تھے ، اس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! ہمیں نماز کا وقت ہو جاتا ہے ، ہم اس وقت اونٹوں کے باڑے میں ہوتے ہیں ، کیا ہم وہاں نماز ادا کر لیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی نہیں ! اُس نے دریافت کیا : کیا ہم ان کا گوشت کھانے کے بعد دوبارہ وضو کریں ، آپ نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس نے دریافت کیا : کیا ہم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس نے دریافت کیا : کیا ہم ان کا گوشت کھانے کے بعد دوبارہ وضو کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی نہیں !
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے ان صحابی کا نام ” یعیش جہنی “ بیان کیا ہے جو ” ذی غرہ “ کے نام سے معروف ہیں ، امام أحمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔