مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ ثَانٍ . باب: اس مضمون سے متعلق دیگر روایات
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِمَا أَرْسَلَكَ رَبُّنَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ ، وَكُلُّ مُسْلِمٍ مِنْ مُسْلِمٍ حَرَامٌ ، يَا حَكِيمُ بْنَ مُعَاوِيَةَ ، هَذَا دِينُكَ أَيْنَمَا تَكُنْ يَكُفَّكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ السَّفْرُ بْنُ نُسَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَرِوَايَتُهُ عَنْ حَكِيمٍ أَظُنُّهَا مُرْسَلَةٌ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤سیدنا حکیم بن معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے پروردگار نے آپ کو کس چیز کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( اس بات کے ہمراہ کہ ) کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ! اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، اور تم نماز قائم کرو ، اور زکوٰۃ ادا کرو ، ہر مسلمان ( یعنی اس کی جان اور مال ) دوسرے مسلمان کے لئے حرام ہے ، اے حکیم بن معاویہ ! یہ تمہارا دین ہے ، تم جہاں کہیں بھی ہو گے ، یہ تمہارا بچاؤ کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن حبیب ہے ، جو مزہ بن حبیب زیات کا بھائی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔