حدیث نمبر: 12995
وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : كَانَ يَسْقِي عَلَى حَوْضٍ ، فَجَاءَ قَوْمٌ فَقَالَ : أَيُّكُمْ يُورِدُ عَلَى أَبِي ذَرٍّ ، وَيَحْتَسِبُ شُعَيْرَاتٍ مِنْ رَأْسِهِ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا . فَجَاءَ الرَّجُلُ فَأَوْرَدَ عَلَيْهِ الْحَوْضَ ، فَدَقَّهُ ، وَكَانَ أَبُو ذَرٍّ قَائِمًا ، فَجَلَسَ ثُمَّ اضْطَجَعَ ، فَقِيلَ لَهُ : لِمَ جَلَسْتَ ثُمَّ اضْطَجَعْتَ ؟ قَالَ : فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَنَا : ¤ " إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ ، فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ ، وَإِلَّا فَلْيَضْطَجِعْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارِ الْقِصَّةِ ، وَدُونَ ذِكْرِ أَبِي الْأَسْوَدِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابواسود ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ حوض پر پانی پلایا کرتے تھے کچھ لوگ آئے تو انہوں نے فرمایا : تم میں سے کون شخص سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس جائے گا اور ان کے سر کے بال گنے گا ، ایک شخص نے کہا: میں ۔ وہ شخص گیا ، وہ حوض میں ان کے پاس آیا ، اس نے انہیں تھپ تھپایا ، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے ، وہ بیٹھ گئے ، پھر وہ لیٹ گئے ، ان سے دریافت کیا گیا : آپ پہلے بیٹھ کیوں گئے اور پھر لیٹ کیوں گئے ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ارشاد فرمایا تھا : ” جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اگر وہ کھڑا ہوا ہو تو اسے بیٹھ جانا چاہیے ، اگر اس کا غصہ ختم ہو جائے تو ٹھیک ہے ورنہ اسے لیٹ جانا چاہیے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد نے واقعہ کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور اس میں ابواسود کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12995
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (152/5)»