مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ وَيَفْعَلُ إِذَا غَضِبَ باب: جب آدمی کو غصہ آئے ، تو وہ کیا پڑھے اور کیا کرے ؟
حدیث نمبر: 12993
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " عَلِّمُوا ، وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا ، وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ ، وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ؛ لِأَنَّ لَيْثًا صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ مِنْ طَاوُسٍ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تعلیم دو ، آسانی فراہم کرو تنگی کا شکار نہ کرو اور جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آ جائے ، تو اسے خاموش ہو جانا چاہیے ، جب تم میں سے کسی ایک شخص کو غصہ آ جائے تو اسے خاموش ہو جانا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ لیث نامی راوی نے طاؤس سے سماع کی صراحت کی ہے ۔