مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ ثَانٍ . باب: اس مضمون سے متعلق دیگر روایات
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ عَنِ الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ : " تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، وَتُحِبُّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ ، وَتَكْرَهُ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ . ¤سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے آپ سے اسلام کے بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس بات کی گواہی دو ! کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ ، اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور تم نماز ادا کرو ، زکوۃ دو ، رمضان کے روزے رکھو ، اور لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرو ، جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو ، اور اُن کے لئے وہی چیز ناپسند کرو ، جو تم اپنے لیے ناپسند کرتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ۔