مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ فِيمَنْ مَسَّ فَرْجَهُ . باب: اس شخص کا بیان جو اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے (یعنی کیا اُس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ )
حدیث نمبر: 1271
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنْ بُسْرَةَ بِنْتَ صَفْوَانَ بْنِ نَوْفَلٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمَرْأَةِ تَضْرِبُ بِيَدِهَا فَتُصِيبُ فَرْجَهَا ، فَقَالَ : " تَوَضَّأُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمِّلِ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى فِي رِوَايَةٍ ، وَوَثَّقَهُ فِي أُخْرَى ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ بسرہ بنت صفوان بن نوفل رضی اللہ عنہا نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی عورت کے بارے میں دریافت کیا ، جو ہاتھ لگاتی ہے ، تو اس کا ہاتھ شرمگاہ کو لگ جاتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ وضو کرے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے ، جسے امام أحمد نے ، اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، دوسری روایت کے مطابق یحیی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔