مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ فِيمَنْ مَسَّ فَرْجَهُ . باب: اس شخص کا بیان جو اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے (یعنی کیا اُس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ )
وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّ خَمْسَةً مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَابْنَ مَسْعُودٍ ، وَحُذَيْفَةَ ، وَعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، وَرَجُلًا آخَرَ - قَالَ بَعْضُهُمْ : مَا أُبَالِي مَسِسْتُ ذَكَرِي أَوْ أَرْنَبَتِي ، وَقَالَ الْآخَرُ : فَخِذِي ، وَقَالَ الْآخَرُ : رُكْبَتِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ الْحَسَنَ مُدَلِّسٌ ، وَلَمْ يُصَرِّحْ بِالسَّمَاعِ . ¤حسن بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے پانچ افراد ، یعنی سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور ایک اور صاحب یہ فرماتے ہیں ، ان میں سے کسی نے یہ کہا: ہے : میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ میں نے اپنی شرمگاہ کو چھو لیا ہے ، یا اپنے ناک کو چھوا ہے ، کسی نے یہ کہا: ہے : میں نے اپنے زانوں کو چھوا ہے ، کسی نے یہ کہا: ہے : میں نے اپنے گھٹنے کو چھوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں اور ” صحیح “ کے رجال میں سے ہیں ، البتہ حسن نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، اور اُس نے سماع کی صراحت نہیں کی ہے ۔