مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ لَمْ يُحْسِنِ الْوُضُوءَ . باب: جو شخص اچھی طرح وضو نہ کرے
وَعَنْ أَبِي رُوحٍ الْكَلَاعِيِّ قَالَ : صَلَّى بِنَا نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةً فَقَرَأَ فِيهَا سُورَةَ الرُّومِ ، فَلُبِّسَ بَعْضُهَا فَقَالَ : " إِنَّمَا لَبَّسَ عَلَيْنَا الشَّيْطَانُ الْقِرَاءَةَ مِنْ أَجْلِ أَقْوَامٍ يَأْتُونَ الصَّلَاةَ بِغَيْرِ وُضُوءٍ ، فَإِذَا أَتَيْتُمِ الصَّلَاةَ فَأَحْسِنُوا الْوُضُوءَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ أَبِي رَوْحٍ نَفْسِهِ ، وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ أَبِي رَوْحٍ عَنْ رَجُلٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوروح کلاعی بیان کرتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھاتے ہوئے ، اُس میں سورہ روم کی تلاوت کی ، اس میں کسی جگہ آپ کو مشابہ لگ گیا ( تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شیطان ہمارے لیے قرأت میں الجھن کر دیتا ہے ، اس کی وجہ کچھ لوگ ہیں ، جو ( صحیح طرح سے مکمل ) وضو کے بغیر نماز کے لئے آ جاتے ہیں ، جب تم نماز کے لیے آؤ ، تو اچھی طرح وضو کرو ۔
یہ روایت امام أحمد نے سیدنا ابوروح رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ابوروح کے حوالے سے ، ایک شخص سے نقل کیا ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔