حدیث نمبر: 12189
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْإِيمَانَ بَدَأَ غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ ، فَطُوبَى يَوْمَئِذٍ لِلْغُرَبَاءِ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ . وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ ، لَيَأْرِزَنَّ الْإِيمَانُ إِلَى بَيْنِ هَذَيْنِ الْمَسْجِدَيْنِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا اور یہ پہلے کی طرح عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، تو اس وقت غریب لوگوں کے لئے مبارک باد ہے جب ( دوسرے ) لوگ خراب ہو چکے ہوں گے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں ابوالقاسم کی جان ہے ، ایمان ان دو مسجدوں کے درمیان یوں لوٹ آئے گا ، جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف لوٹتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12189
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3286) أخرجه أبو يعلى فى المسند (756) اخرجه احمد فى المسند (184/1)»