عَنْ أَبِي أَيُّوبَ وَحْدَهُ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُونَ مِنْ أُمَّتِي " . قَالُوا : وَمَا الْمُتَخَلِّلُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْمُتَخَلِّلُونَ بِالْوُضُوءِ ، وَالْمُتَخَلِّلُونَ مِنَ الطَّعَامِ ; أَمَّا تَخْلِيلُ الْوُضُوءِ فَالْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ وَبَيْنَ الْأَصَابِعِ ، وَأَمَّا تَخْلِيلُ الطَّعَامِ فَمِنَ الطَّعَامِ . إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ أَشَدَّ عَلَى الْمَلَكَيْنِ مِنْ أَنْ يَرَيَا بَيْنَ أَسْنَانِ صَاحِبِهِمَا طَعَامًا وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي " . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِمَا وَاصِلٌ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤معجم کبیر میں ، صرف سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، اور ارشاد فرمایا : میری امت کے خلال کرنے والے افراد کے کیا کہنے ، لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! خلال کرنے والے افراد کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وضو میں خلال کرنے والے اور کھانے کا خلال کرنے والے ، جہاں تک وضو کے خلال کا تعلق ہے ، تو وہ کلی کرتے ہوئے ناک میں پانی ڈالتے ہوئے اور انگلیوں کے درمیان ہو گا ، اور جہاں تک کھانے کے خلال کا تعلق ہے ، تو وہ کھانے کی چیز کے بارے میں ہو گا ، کیونکہ ( انسان کے ساتھ رہنے والے ) دونوں فرشتوں کے لیے کوئی چیز اتنی زیادہ گراں نہیں ہوتی ، جتنی یہ ہوتی ہے کہ وہ دونوں ( فرشتے ) اپنے ساتھ والے شخص کے دانتوں کے درمیان میں ، کھانے کی کوئی چیز دیکھیں ، جبکہ وہ شخص کھڑا ہوا نماز ادا کر رہا ہو “ ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی واصل رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔