حدیث نمبر: 11928
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ بِخَيْبَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] قَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ : " إِنَّ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ " فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ أَشَدَّ الْقِتَالِ حَتَّى كَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ ، فَأَتَاهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ الَّذِي ذَكَرْتَ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَقَدْ قَاتَلَ وَاللَّهِ أَشَدَّ الْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَكَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " ، فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ أَنْ يَرْتَابَ ، فَبَيْنَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ وَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجِرَاحِ فَأَهْوَى يَدَهُ إِلَى كِنَانَتِهِ فَانْتَزَعَ مِنْهَا سَهْمًا فَانْتَحَرَ بِهِ ، فَاشْتَدَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ صَدَقَ اللَّهُ قَوْلَكَ ، فَقَدْ نَحَرَ فُلَانٌ نَفْسَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن عبدالله بن كعب بن مالک بیان کرتے ہیں : انہیں ایک ایسے شخص نے یہ بات بتائی ہے کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خبیر میں شریک ہوئے تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ موجود افراد میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ فرمایا : یہ جہنمی ہے ، جب لڑائی کا موقع آیا ، تو اس شخص نے بھرپور لڑائی کی ، یہاں تک کہ اسے بہت سے زخم لاحق ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے اس شخص کو ملاحظہ فرمایا ؟ جس کے بارے میں آپ نے یہ ذکر کیا تھا کہ وہ جہنمی ہے ، اللہ کی قسم ! اس نے تو اللہ کی راہ میں بھرپور لڑائی کی ہے اور اس کو کئی زخم لاحق ہوئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جہنمی ہی ہے ، لوگوں میں سے کچھ کو اس بارے میں شک ہوا ، اسی دوران اس شخص نے زخم کی تکلیف محسوس کی ، تو اپنا ہاتھ ترکش کی طرف بڑھایا ، اس میں سے ایک تیر نکالا اور اس کے ذریعے خودکشی کر لی ، تو مسلمانوں میں سے ایک شخص دوڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرمان کو سچ ظاہر کر دیا ہے ، فلاں شخص نے خودکشی کر لی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11928
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (135/4)»