مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَعْتَرِضُ . باب: اس شخص کا بیان جو ( تقدیر کے فیصلے پر ) اعتراض کرتا ہے
حدیث نمبر: 11896
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : لَأَنْ يَقْبِضَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ حَتَّى تَبْرُدَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَقُولَ لَأَمْرٍ قَضَاهُ اللَّهُ : لَيْتَهُ لَمْ يَكُنْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” تم میں سے کوئی ایک شخص انگارہ مٹھی میں لے ، اور اتنی دیر تک رکھے کہ وہ ٹھنڈا ہو جائے ، یہ اُس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے معاملے کے بارے میں ، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ دیا ہو ، اُس کے بارے میں یہ کہے : کاش ایسا نہ ہوتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔