حدیث نمبر: 11853
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَابِ الْبَيْتِ وَهُوَ يُرِيدُ الْحُجْرَةَ ، فَسَمِعَ قَوْمًا يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ فِي الْقَدَرِ وَهُمْ يَقُولُونَ : أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ إِنَّهُ كَذَا وَكَذَا ؟ أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ آيَةَ كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : فَفَتَحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَابَ الْحُجْرَةِ فَكَأَنَّمَا فُقِئَ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ ، فَقَالَ : " أَبِهَذَا أُمِرْتُمْ ؟ أَوَ بِهَذَا عَنِيتُمْ ؟ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِأَشْبَاهِ هَذَا ، ضَرَبُوا كِتَابَ اللَّهِ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ ، أَمَرَكُمُ اللَّهُ بِأَمْرٍ فَاتَّبِعُوهُ ، وَنَهَاكُمْ فَانْتَهُوا " ، قَالَ : فَلَمْ يَسْمَعِ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ أَحَدًا يَتَكَلَّمُ ، حَتَّى مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ فَأَخَذَهُ الْحَجَّاجُ فَقَتَلَهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے دروازے سے باہر نکلے ، آپ حجرے میں جانا چاہ رہے تھے ، آپ نے کچھ لوگوں کی آواز سنی جو تقدیر کے بارے میں بحث کر رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ یہ ارشاد نہیں فرمایا ہے ؟ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ یہ ارشاد نہیں فرمایا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ کھولا اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ( غصے کی شدت کی وجہ سے ) جیسے آپ کے چہرے پر انار انڈیل دیا گیا ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے ؟ کیا تم سے یہی بات چاہی گئی ہے ؟ تم سے پہلے لوگ اس طرح کی باتوں کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ایک حصے کو دوسرے کے مقابلے میں پیش کرتے تھے ، اللہ تعالیٰ تمہیں جس بات کا حکم دیتا ہے ، تم اس کی پیروی کرو اور جس چیز سے اس نے تمہیں منع کیا ہے اس سے باز آ جاؤ ! راوی کہتے ہیں اس کے بعد کبھی کوئی شخص تقدیر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے نہیں سنا گیا ، یہاں تک کہ معبد جہنی کا زمانہ آ گیا ( اور اس نے یہ کام شروع کیا ) تو حجاج نے اسے پکڑ کے اسے قتل کروا دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11853
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1321)»