مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ . باب: تقدیر پر ایمان رکھنا
حدیث نمبر: 11841
وَعَنِ الْحَارِثِ قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَبُلُّ إِصْبَعَهُ فِي فِيهِ ثُمَّ يَقُولُ : وَاللَّهِ لَا يَجِدُ عَبْدٌ طَعْمَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ ، وَيَعْلَمَ أَنَّهُ مَيِّتٌ ثُمَّ مَبْعُوثٌ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْحَارِثُ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
حارث بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے منہ میں انگلی ڈال کر اسے تر کیا اور پھر ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! انسان ، ایمان کا ذائقہ اس وقت تک نہیں پا سکتا ، جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا اور یہ بات جان نہیں لیتا کہ ایک دن وہ مر جائے گا اور پھر مرنے کے بعد اُسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، حارث نامی راوی ضعیف ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔