حدیث نمبر: 11810
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - حِينَ يُرِيدُ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ يَبْعَثُ مَلَكًا فَيَدْخُلُ الرَّحِمَ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ مَاذَا ؟ فَيَقُولُ : غُلَامٌ أَوْ جَارِيَةٌ ، أَوْ مَا أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَ فِي الرَّحِمِ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ شَقِيٌ أَمْ سَعِيدٌ ؟ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ مَا أَجَلُهُ ؟ مَا خَلَائِقُهُ ؟ فَيَقُولُ : كَذَا وَكَذَا ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ مَا رِزْقُهُ ؟ فَيَقُولُ : كَذَا وَكَذَا ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ مَا خُلُقُهُ ؟ مَا خَلَائِقُهُ ؟ فَمَا مِنْ شَيْءٍ إِلَّا وَهُوَ يُخْلَقُ مَعَهُ فِي الرَّحِمِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جب اللہ تعالیٰ مخلوق ( میں سے کسی ) کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے ، تو وہ فرشتے کو بھیجتا ہے ، وہ رحم میں داخل ہوتا ہے اور عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! یہ کیا ہو گا ؟ تو پروردگار فرماتا ہے : یہ لڑکا ہو گا یا لڑکی ہو گی ، یا جو بھی اللہ تعالیٰ کو رحم میں پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے ، وہ پیدا فرماتا ہے ، فرشتہ دریافت کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! کیا یہ بدنصیب ہو گا یا خوش نصیب ہو گا ؟ تو پروردگار فرماتا ہے ، بدنصیب ہو گا یا خوش نصیب ہو گا ، فرشتہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! اسے موت کب آئے گی ؟ اس کے اخلاق کیا ہوں گے ؟ تو پروردگار فرماتا ہے : اس اس طرح کے ہوں گے ، فرشتہ دریافت کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! اس کا رزق کیا ہو گا ؟ تو پروردگار فرماتا ہے : اتنا اتنا ہو گا ، وہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! اس کے اخلاق اور خلائق کیسے ہوں گے ؟ تو ہر ایک چیز رحم میں اس شخص کے ساتھ تخلیق ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11810
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10543)»