مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ : جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ . باب: جو کچھ ہونا ہے ، اس کے حوالے سے ( تقدیر کا ) قلم خشک ہو چکا ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْدَفَهُ ، فَقَالَ : " يَا فَتَى ، أَلَا أَهَبُ لَكَ ؟ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِنَّ ؟ احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ ، احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ ، وَإِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ ، وَاعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْخَلَائِقَ لَوْ أَرَادُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْكَ ، وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ الْقُرَشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا اور فرمایا : ” اے نوجوان ! کیا میں تمہیں ایک چیز نہ دوں ؟ کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ تمہیں نفع عطا کرے گا ، تم اللہ تعالیٰ کی حفاظت کرو ، وہ تمہاری حفاظت کرے گا ، تم اللہ کی طرف توجہ رکھو ، تم اس کو اپنے پاس پاؤ گے ، جب تم مانگو تو اللہ تعالیٰ سے مانگو ، جب تم مدد مانگو ، تو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو ، اور تم یہ بات جان لو کہ جو ہونا ہے ، اُس کے حوالے سے قلم خشک ہو چکا ہے ، اور تم یہ بات جان لو کہ اگر ساری مخلوق کسی حوالے سے تمہارے بارے میں کوئی ارادہ کرے ، جو چیز تمہارے خلاف نوٹ نہ کی گئی ہو ، تو وہ تم پر قدرت نہیں حاصل کر پائیں گے ، اور تم یہ بات جان لو ! کہ صبر کے ساتھ مدد ملتی ہے اور پریشانی کے ساتھ کشادگی نصیب ہوتی ہے اور تنگی کے ساتھ آسانی ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوعلی قرشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔