حدیث نمبر: 11772
وَعَنِ ابْنِ زُمَيْلٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ قَالَ وَهُوَ ثَانٍ رِجْلَهُ : " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا " سَبْعِينَ مَرَّةً ، ثُمَّ يَقُولُ : سَبْعِينَ بِسَبْعِمِائَةٍ ، لَا خَيْرَ لِمَنْ كَانَتْ ذُنُوبُهُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِمِائَةٍ ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُ النَّاسَ بِوَجْهِهِ ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا فَيَقُولُ : " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا ؟ " . قَالَ ابْنُ زُمَيْلٍ : فَقُلْتُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " خَيْرًا تَلْقَاهُ وَشَرًّا تَوَقَّاهُ ، وَخَيْرٌ لَنَا وَشَرٌّ عَلَى أَعْدَائِنَا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ اقْصُصْ رُؤْيَاكَ " . فَقُلْتُ : رَأَيْتُ جَمِيعَ النَّاسِ عَلَى طَرِيقٍ رَحْبٍ سَهْلٍ لَاحِبٍ ، وَالنَّاسُ [ عَلَى الْجَادَةِ ] مُنْطَلِقُونَ ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَشْفَى ذَلِكَ الطَّرِيقُ عَلَى مَرْجٍ لَمْ تَرَ عَيْنَايَ مِثْلَهُ ، يَرِفُّ رَفِيفًا وَيَقْطُرُ نَدَاهُ ، فِيهِ مِنْ أَنْوَاعِ الْكَلَإِ ، فَكَأَنِّي بِالرَّعْلَةِ الْأُولَى حِينَ أَشْفَوْا عَلَى الْمَرْجِ ، كَبَّرُوا ، ثُمَّ رَكِبُوا رَوَاحِلَهُمْ فِي الطَّرِيقِ ، فَمِنْهُمُ الْمُرْتَقِي ، وَمِنْهُمُ الْآخِذُ الضِّغْثَ ، وَمَضَوْا عَلَى ذَلِكَ . قَالَ : ثُمَّ قَدِمَ عَظِمُ النَّاسِ ، فَلَمَّا أَشْفَوْا عَلَى الْمَرْجِ كَبَّرُوا ، فَقَالُوا : خَيْرُ الْمَنْزِلِ . فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَمِيلُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ لَزِمْتُ الطَّرِيقَ حَتَّى آتِيَ أَقْصَى الْمَرْجِ ، فَإِذَا أَنَا بِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى مِنْبَرٍ فِيهِ سَبْعُ دَرَجَاتٍ ، وَأَنْتَ فِي أَعْلَاهَا دَرَجَةً ، فَإِذَا عَنْ يَمِينِكَ رَجُلٌ آدَمٌ شَثْنٍ ، أَقْنَى إِذَا هُوَ تَكَلَّمَ ، يَسْمُو فَيَفْرَعُ الرِّجَالَ طُولًا ، وَإِذَا عَنْ يَسَارِكَ رَجُلٌ تَارٌّ رَبْعَةٌ أَحْمَرُ كَثِيرُ خِيلَانِ الْوَجْهِ ، كَأَنَّمَا حَمَّمَ شَعْرَهُ بِالْمَاءِ ، إِذَا هُوَ تَكَلَّمَ أَصْغَيْتُمْ لَهُ إِكْرَامًا لَهُ ، وَإِذَا أَمَامَكُمْ شَيْخٌ أَشْبَهُ النَّاسِ بِكَ خَلْقًا ، وَوَجْهًا ، كُلُّهُمْ يَؤُمُّونَهُ يُرِيدُونَهُ ، فَإِذَا أَمَامَ ذَلِكَ نَاقَةٌ عَجْفَاءُ شَارِفٌ ، وَإِذَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّكَ تَتَّقِيهَا . قَالَ : فَانْتُقِعَ لَوْنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " أَمَّا مَا رَأَيْتَ مِنَ الطَّرِيقِ السَّهْلِ الرَّحْبِ اللَّاحِبِ فَذَلِكَ مَا حُمِلْتُمْ عَلَيْهِ مِنَ الْهُدَى فَأَنْتُمْ عَلَيْهِ ، وَأَمَّا الْمَرْجُ الَّذِي رَأَيْتَ فَالدُّنْيَا وَغَضَارَةُ عَيْشِهَا، مَضَيْتُ أَنَا وَأَصْحَابِي لَمْ نَتَعَلَّقْ بِهَا [ شَيْئًا ] وَلَمْ تَتَعَلَّقْ بِنَا ، ثُمَّ جَاءَتِ الرَّعْلَةُ الثَّانِيَةُ بَعْدَنَا ، وَهُمْ أَكْثَرُ مِنَّا ، ضِعَافًا فَمِنْهُمُ الْمُرْبِعُ ، وَمِنْهُمُ الْآخِذُ الضِّغْثَ ، وَنَحْوَهُ عَلَى ذَلِكَ ، ثُمَّ جَاءَ عَظِيمُ النَّاسِ فَمَالُوا فِي الْمَرْجِ يَمِينًا وَشِمَالًا [ فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ] . وَأَمَّا أَنْتَ فَمَضَيْتَ عَلَى طَرِيقٍ صَالِحَةٍ فَلَمْ تَزَلْ عَلَيْهَا حَتَّى تَلْقَانِي . وَأَمَّا الْمِنْبَرُ الَّذِي رَأَيْتَ فِيهِ سَبْعَ دَرَجَاتٍ وَأَنَا فِي أَعْلَاهَا دَرَجَةً فَالدُّنْيَا ، سَبْعَةُ آلَافِ سَنَةٍ ، وَأَنَا فِي آخِرِهَا أَلْفًا . وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي رَأَيْتَ عَنْ يَمِينِي الْآدَمُ الشَّثْنُ فَذَاكَ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - إِذَا تَكَلَّمَ يَعْلُو الرِّجَالَ بِفَضْلِ كَلَامِ اللَّهِ إِيَّاهُ . وَالَّذِي رَأَيْتَ عَنْ يَسَارِي التَارُّ الرَّبْعَةُ الْكَثِيرُ خِيلَانِ الْوَجْهِ كَأَنَّهُ حَمَّمَ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ فَذَاكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - تُكْرِمُهُ لِإِكْرَامِ اللَّهِ إِيَّاهُ . وَأَمَّا الشَّيْخُ الَّذِي رَأَيْتَ أَشْبَهَ النَّاسِ بِي خَلْقًا وَوَجْهًا فَذَاكَ أَبُونَا إِبْرَاهِيمُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - كُلُّنَا نَؤُمُّهُ وَنَقْتَدِي بِهِ . وَأَمَّا النَّاقَةُ الَّتِي رَأَيْتَ وَرَأَيْتَنِي أَتَّقِيهَا فَهِيَ السَّاعَةُ ، عَلَيْنَا تَقُومُ ، لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا أُمَّةَ بَعْدَ أُمَّتِي " . قَالَ : فَمَا سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رُؤْيَا بَعْدَهَا إِلَّا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ فَيُحَدِّثُهُ بِهَا مُتَبَرِّعًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْقُرَشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابن زمیل جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تھے ، تو اپنی ٹانگ موڑ کر یہ ارشاد فرماتے تھے : ( یعنی یہ پڑھتے تھے : ) ” اللہ تعالیٰ کی ذات ، ہر عیب سے پاک ہے اور حمد ، اس کے لئے مخصوص ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے “ ۔ یہ آپ ستر مرتبہ پڑھتے تھے ، پھر یہ فرماتے تھے : ان ستر کا ثواب سات سو ہو گا ، اور اس شخص کے لئے بھلائی نہیں ہے ، جس کے گناہ ایک دن میں سات سو سے زیادہ ہوں ، پھر آپ لوگوں کی طرف رخ کر لیتے تھے ، آپ کو خواب پسند تھے ، آپ یہ فرماتے تھے : کیا تم میں سے کسی نے کوئی ( نمایاں قسم کا ) خواب دیکھا ہے ؟ سیدنا ابن زمیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ( ایک مرتبہ میں نے عرض کی : ) یا رسول اللہ ! میں نے دیکھا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ بھلائی ہو گی ، جس کا تم سامنا کرو گے ، یا برائی ہو گی ، جس سے تمہیں بچا لیا گیا ہو گا ، وہ ہمارے حق میں بہتر ہو گا اور ہمارے دشمنوں کے حق میں برا ہو گا ، ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، تم اپنا خواب بیان کرو ! میں نے عرض کی : میں نے خواب میں لوگوں کو دیکھا کہ سب لوگ ایک کشادہ اور آسان راستے پر گامزن ہیں ، لوگ اس راستے پر چل رہے ہیں اور وہ راستہ جا کر ایک چراگاہ میں ختم ہوتا ہے ، میری آنکھوں نے اس جیسی چراہ گاہ نہیں دیکھی ، وہ سبزہ موجود تھا ، اس میں مختلف نوعیت کی گھاس پھوس تھی ، میں گویا آگے جانے والے لوگوں میں شامل تھا ، جب وہ لوگ اس چرا گاہ میں پہنچے ، تو ان لوگوں نے تکبیر کہی ، اور پھر وہ راستے میں ہی سوار ہو گئے ، ان لوگوں میں سے کچھ لوگ سواریوں کو چرانے لگے اور کچھ لوگ گھاس کے گٹھے بنانے لگے ، وہ لوگ یہ کام کر رہے تھے کہ اسی دوران پھر بہت سے لوگ آ گئے ، جب وہ چراگاہ میں پہنچے ، تو انہوں نے تکبیر کہی اور بولے : یہ پڑاؤ کا بہترین مقام ہے ، میں گویا اس وقت بھی ان کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں مائل ہو رہے تھے ، جب میں نے یہ صورت حال دیکھی ، تو میں راستے پر ہی رہا ، یہاں تک کہ چراگاہ کے آخری حصے میں آ گیا ، تو یا رسول اللہ ! میں نے وہاں آپ کو دیکھا کہ آپ وہاں ایک منبر پر تشریف فرما ہیں ، جس میں سات درجات ہیں ، اور آپ اُس کے سب سے بلند درجہ پر موجود ہیں ، آپ کے دائیں طرف ایک صاحب ہیں ، جو گندمی رنگت اور مضبوط جسم کے مالک ہیں ، جب وہ گفتگو کرتے تو نمایاں محسوس ہوتے ، وہ نمایاں طور پر طویل القامت محسوس ہوتے تھے ، جبکہ آپ کے بائیں طرف ، مناسب قد و قامت کے مالک ، سرخ رنگ کے مالک ایک فرد تھے ، جن کے چہرے پر تل زیادہ تھے ، یوں محسوس ہوتا تھا ، کہ ان کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپکنے لگے ہیں ، جب وہ بات کرتے تھے تو آپ لوگ ان کی عزت افزائی کے لیے مکمل طور پر ان کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے ، اور آپ لوگوں کے سامنے ایک بزرگوار موجود تھے ، جو ظاہری جسامت اور چہرے سے ، سب لوگوں سے زیادہ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے تھے ، سب لوگ ان کا قصد کرتے تھے ، ان کا ارادہ کرتے تھے ، اور وہاں پر سامنے ایک کمزور اونٹنی موجود تھی ، اور یوں محسوس ہوا ، یا رسول اللہ ! جیسے آپ اس سے بچ رہے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : گھڑی بھر کے لئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رنگت متغیر ہوئی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہو گئی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم نے جو کشادہ اور آسان راستہ دیکھا ہے ، تو اُس سے مراد ، وہ ہدایت ہے ، جس پر تم لوگ گامزن ہو ، جہاں تک چراگاہ کا تعلق ہے ، جو تم نے دیکھی ، تو اس سے مراد ، دنیا اور اس کی زندگی کا عیش و آرام ہے ، میں اور میرے اصحاب دنیا سے رخصت ہو جائیں گے اور ہمارا اس عیش و آرام سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا ، اور دنیا کا ہمارے ساتھ کوئی واسطہ نہیں گا ، پھر ہمارے بعد دوسرا گروہ آئے گا ، جو تعداد میں ہم سے زیادہ ہو گا ، ان میں سے کچھ لوگ تھوڑا لینے والے ہوں گے اور کچھ گٹھے اکٹھے کریں گے ، پھر بہت سے لوگ آ جائیں گے اور چراگاہ میں دائیں ، بائیں پھیل جائیں گے ، تو بے شک ہم ، اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں ، اور بے شک ہم نے اُسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ، جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تم ایک سیدھے راستے پر چل رہے ہو ، اور مسلسل اُس پر گامزن رہو گے ، یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو گے ، جہاں تک اُس منبر کا تعلق ہے کہ جو تم نے دیکھا کہ اُس میں سات درجات ہیں ، اور میں اُس کے بلند ترین درجے پر ہوں ، تو دنیا سات ہزار سال کی ہو گی ، اور ” میں “ آخری ہزار سال میں ہوں ، جہاں تک اُس شخص کا تعلق ہے ، جسے تم نے میرے دائیں طرف دیکھا ، جو گندمی رنگت کا مضبوط جسم کا شخص تھا ، تو وہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام تھے ، جب وہ کلام تھا ، کرتے تھے ، تو دیگر لوگوں پر فائق محسوس ہوتے تھے ، اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں یہ فضیلت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کلام کیا ہے ، جہاں تک اُن صاحب کا تعلق ہے ، جنہیں تم نے میرے بائیں طرف دیکھا ، جو مناسب قد و قامت کے مالک ، سرخ رنگ کے مالک ایک فرد تھے ، جن کے چہرے پر تل زیادہ تھے ، یوں محسوس ہوتا تھا ، کہ ان کے چہرے پر پانی ڈالا گیا ہے ، تو وہ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تھے اور یہ عزت افزائی اس لیے تھی ، کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت عطا کی ہے ، جہاں تک اُن بزرگوار کا تعلق ہے ، جنہیں تم نے دیکھا کہ وہ ظاہری جسامت اور شکل و صورت کے اعتبار سے ، مجھ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے ، تو وہ ہمارے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام تھے ، اور ہم اُن کی پیروی کرتے ہیں اور ان کی اقتداء کرتے ہیں ، جہاں تک اس اونٹنی کا تعلق ہے ، جو تم نے دیکھی اور تم نے مجھے دیکھا کہ میں اُس سے بچ رہا ہوں ، تو اُس سے مراد قیامت ہے ، جو ہم پر قائم ہو گی ، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ، اور میری امت کے بعد ، کوئی امت نہیں ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی کسی خواب کے بارے میں دریافت کیا ، تو کوئی شخص آتا تھا اور فضیلت کے طور پر آپ کو ( اپنا خواب ) بیان کرتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عطاء قرشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11772
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8149)»